ابو العلاء حضرمی رضی اللہ تعالی عنہ
خاندانی پس منظر اور لقب
حضرت العلاء بن الحضرمي رضی اللہ تعالی عنہ کا شمار رسول اللہ ﷺ کے جلیل القدر صحابہ کرام اور ممتاز قائدین میں ہوتا ہے۔ آپ کا اصل نام العلاء تھا اور آپ کے والد کا نام الحضرمي تھا۔ آپ کی کنیت ابو محمد تھی۔ بعض اوقات آپ کو ان کے علاقے کی نسبت سے "الحضرمي” پکارا جاتا ہے۔ آپ کا تعلق قبیلہ حضرموت سے تھا، جو یمن کا ایک مشہور علاقہ ہے۔ اگرچہ آپ کا آبائی وطن حضرموت تھا، لیکن آپ کا خاندان مکہ مکرمہ میں آباد ہو گیا تھا اور بنو عبد شمس کے حلیف تھے۔ یہ تعلق آپ کی مکی زندگی اور بعد کی خدمات میں اہم رہا۔
ابتدائی زندگی اور قبولِ اسلام
حضرت العلاء بن الحضرمي رضی اللہ تعالی عنہ مکہ مکرمہ میں پیدا ہوئے اور وہیں پلے بڑھے۔ آپ ان خوش نصیب افراد میں سے تھے جنہوں نے اسلام کی ابتدائی دعوت پر لبیک کہا۔ آپ نے دعوتِ حق کو اس وقت قبول کیا جب مکہ میں مسلمانوں کی تعداد بہت کم تھی اور انہیں شدید تکالیف کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا۔ اسلام قبول کرنے کے بعد آپ کو بھی قریش کی جانب سے ایذا رسانی کا نشانہ بنایا گیا، لیکن آپ نے ثابت قدمی کا مظاہرہ کیا۔
آپ نے مکی زندگی میں ہجرت حبشہ (ابیسینیا) میں بھی حصہ لیا، جو مسلمانوں کی پہلی ہجرت تھی تاکہ وہ کفار کے ظلم و ستم سے بچ کر دین پر آزادی سے عمل کر سکیں۔ بعد ازاں، آپ نے نبی کریم ﷺ کے حکم پر مدینہ منورہ کی طرف ہجرت فرمائی اور نبی اکرم ﷺ کے قرب میں رہ کر دین کا علم حاصل کیا۔ آپ کا شمار ان صحابہ کرام میں ہوتا ہے جنہوں نے اپنی پوری زندگی اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی رضا کے لیے وقف کر دی۔
نمایاں کارنامے اور خدمات
حضرت العلاء بن الحضرمي رضی اللہ تعالی عنہ نے اسلامی تاریخ میں گراں قدر خدمات انجام دیں۔ آپ کی سب سے نمایاں خدمات میں سے چند درج ذیل ہیں:
- بحرین کے گورنر مقرر ہونا: 8 ہجری میں (بعض روایات کے مطابق 6 ہجری میں)، نبی کریم ﷺ نے آپ کو بحرین کا عامل (گورنر) مقرر فرما کر بھیجا۔ آپ ﷺ نے آپ کے ہاتھ حاکمِ بحرین منذر بن ساویٰ کے نام اسلام کی دعوت کا خط بھیجا۔ حضرت العلاء بن الحضرمي رضی اللہ تعالی عنہ کی کامیاب سفارت کاری اور حکمت عملی کے نتیجے میں منذر بن ساویٰ اور ان کے علاقے کے لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے اسلام قبول کیا۔ یہ آپ کی قائدانہ صلاحیتوں اور تبلیغی حکمت کا منہ بولتا ثبوت تھا۔
- فتنہ ارتداد میں کردار: نبی کریم ﷺ کے وصال کے بعد جب جزیرہ نما عرب میں ارتداد (دین سے پھر جانے) کا فتنہ پھیلا، تو حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ نے اس فتنے کے خاتمے کے لیے جو عظیم جدوجہد کی، اس میں حضرت العلاء بن الحضرمي رضی اللہ تعالی عنہ کا کردار انتہائی اہم تھا۔ آپ نے بحرین اور مشرقی عرب میں مرتدین کے خلاف کامیاب فوجی کارروائیاں کیں اور اسلامی حکومت کو دوبارہ مستحکم کیا۔ آپ نے مختلف قبائل، جیسے بنو بکر بن وائل اور دیگر سرکش قبائل کو شکست دی، اور اسلام کی بالادستی قائم کی۔
- ایران (فارس) کی فتوحات: حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ کے دورِ خلافت میں بھی آپ بحرین کے گورنر رہے۔ آپ نے جزیرہ نما عرب سے نکل کر ایران (فارس) کی طرف اسلامی فتوحات کا آغاز کیا۔ آپ کی قیادت میں مسلمانوں نے خلیج فارس کو عبور کیا اور ایران کے ساحلی علاقوں میں اسلام کا پرچم لہرایا۔ یہ اسلامی تاریخ میں بحری جنگوں کا ایک اہم ابتدائی مرحلہ تھا۔ اگرچہ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ بحری سفر کے خطرات کے پیش نظر ابتدا میں زیادہ حوصلہ افزائی نہیں فرماتے تھے، تاہم حضرت العلاء کی مہمات نے فارس میں اسلامی فتوحات کی راہ ہموار کی۔ آپ کی فتوحات نے مشرقی سمت میں اسلامی سلطنت کی حدود کو وسیع کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔
میراث اور وصال
حضرت العلاء بن الحضرمي رضی اللہ تعالی عنہ کا وصال 14 ہجری میں ہوا، بعض روایات کے مطابق 21 ہجری بھی مذکور ہے، لیکن 14 ہجری زیادہ راجح ہے۔ آپ کا وصال اس وقت ہوا جب آپ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ کے حکم پر بصرہ کی طرف روانہ تھے یا کسی فوجی مہم پر تھے۔ آپ نے بصرہ میں ذمہ داریاں سنبھالنے سے قبل ہی راستے میں انتقال فرمایا۔ آپ کی وفات "ساوٰی” نامی مقام پر ہوئی، جو بحرین اور بصرہ کے درمیان ایک جگہ تھی۔
آپ کی میراث ایک عظیم سپہ سالار، ایک کامیاب منتظم اور دین کے سچے مبلغ کی ہے۔ آپ نے اپنی زندگی اللہ کی راہ میں جہاد، تبلیغ اور خدمتِ اسلام میں گزاری۔ آپ نے بحرین اور اس کے مضافات میں اسلام کو استحکام بخشا اور ایران کی سمت اسلامی فتوحات کی بنیاد رکھی۔ آپ کے کارنامے رہتی دنیا تک اسلامی تاریخ کا روشن باب رہیں گے۔
مستند حوالہ جات
- الطبقات الکبریٰ از ابن سعد
- تاریخ الرسل والملوک از طبری
- البدایہ والنہایہ از ابن کثیر
- الإصابة في تمييز الصحابة از ابن حجر عسقلانی
- اسد الغابۃ فی معرفۃ الصحابۃ از ابن اثیر
