ابن ام مکتوم رضی اللہ تعالی عنہ

خاندانی پس منظر اور لقب

حضرت عبداللہ بن ام مکتوم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا اصل نام عمرو بن قیس تھا، بعض روایات میں عبداللہ بن قیس یا عمرو بن زائدہ بھی ملتا ہے۔ آپ کا لقب "ابو یعلیٰ” تھا۔ آپ قریش کے بنو عامر بن لوئی قبیلے سے تعلق رکھتے تھے۔ آپ کی والدہ کا نام عاتکہ بنت عبداللہ تھا اور وہ بنو مخزوم سے تھیں۔ انہیں "ام مکتوم” کے نام سے پکارا جاتا تھا، جس کا مطلب ہے "پوشیدہ کی ماں”۔ یہ لقب یا تو اس وجہ سے تھا کہ ان کے بیٹے (حضرت عبداللہ) پیدائشی طور پر نابینا تھے اور ان کی بصارت پر پردہ پڑا ہوا تھا، یا اس کی کوئی اور وجہ تھی جو تاریخی حوالوں میں واضح نہیں۔ آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کے ماموں زاد بھائی تھے، اس لحاظ سے آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بھی رشتے دار تھے۔ حضرت عبداللہ بن ام مکتوم رضی اللہ تعالیٰ عنہ پیدائشی طور پر نابینا تھے۔

ابتدائی زندگی اور قبولِ اسلام

حضرت عبداللہ بن ام مکتوم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنی ابتدائی زندگی مکہ مکرمہ میں گزاری۔ آپ کو قریش کے ان چند ابتدائی افراد میں شمار کیا جاتا ہے جنہوں نے بعثت نبوی کے آغاز میں ہی اسلام قبول کیا اور اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت پر ایمان لے آئے۔ آپ کی زندگی کا سب سے نمایاں واقعہ وہ ہے جس کا ذکر قرآن مجید کی سورہ عبس کی ابتدائی آیات میں کیا گیا ہے۔ یہ واقعہ ہجرت سے قبل مکہ مکرمہ میں پیش آیا جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قریش کے چند سرکردہ سرداروں، مثلاً عتبہ بن ربیعہ، شیبہ بن ربیعہ، ابو جہل، امیہ بن خلف اور ولید بن مغیرہ کو اسلام کی دعوت دے رہے تھے اور انہیں سمجھانے میں مصروف تھے۔ اسی اثنا میں حضرت عبداللہ بن ام مکتوم رضی اللہ تعالیٰ عنہ وہاں تشریف لائے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بلند آواز سے پکارا کہ "اے اللہ کے رسول! مجھے بھی اللہ کی تعلیمات سے سکھائیے جو اللہ نے آپ کو سکھائی ہیں۔” آپ بار بار اپنی بات دہراتے رہے کیونکہ آپ نابینا تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مشغول ہونے کا ادراک نہ کر سکے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو قریش کے سرداروں کے اسلام لانے کی شدید خواہش تھی تاکہ اسلام کو قوت ملے اور وہ سرداروں سے منہ موڑ کر ایک نابینا شخص کی طرف متوجہ ہونا مناسب نہ سمجھے۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے پر ناگواری کے آثار نمودار ہوئے اور آپ نے ان سے رُخ موڑ لیا۔

اس واقعے کے فوراً بعد اللہ تعالیٰ نے سورہ عبس کی ابتدائی دس آیات نازل فرمائیں:
"عَبَسَ وَتَوَلّٰۤىۙ (۱) اَنْ جَآءَهُ الْاَعْمٰى۠ (۲) وَمَا يُدْرِيْكَ لَعَلَّهُ يَزَّكّٰىۤ۠ (۳) اَوْ يَذَّكَّرُ فَتَنْفَعَهُ الذِّكْرٰىؕ (۴) اَمَّا مَنِ اسْتَغْنٰىۙ (۵) فَاَنْتَ لَهٗ تَصَدّٰىؕ (۶) وَمَا عَلَيْكَ اَلَّا يَزَّكّٰىؕ (۷) وَاَمَّا مَنْ جَآءَكَ يَسْعٰىۙ (۸) وَهُوَ يَخْشٰىۙ (۹) فَاَنْتَ عَنْهُ تَلَهّٰىؕ (۱۰)”
(اس نے تیوری چڑھائی اور منہ موڑ لیا۔ اس بات پر کہ اس کے پاس ایک نابینا آیا۔ اور تمہیں کیا معلوم شاید وہ سدھر جاتا۔ یا نصیحت سنتا تو اسے نصیحت فائدہ دیتی۔ رہا وہ جو بے پرواہی کرتا ہے۔ تو تم اس کی طرف توجہ کرتے ہو۔ اور تم پر کوئی الزام نہیں اگر وہ نہ سدھرے۔ اور جو تمہارے پاس دوڑتا ہوا آتا ہے۔ اور وہ ڈرتا بھی ہے۔ تو تم اس سے غفلت برتتے ہو۔)
ان آیات کے نزول کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیشہ حضرت عبداللہ بن ام مکتوم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا بے حد احترام فرماتے، ان کی آمد پر کھڑے ہو جاتے اور انہیں "مرحباً بمن عاتبني فيه ربي” (خوش آمدید اس کو جس کے بارے میں میرے رب نے مجھ پر عتاب فرمایا) کہہ کر مخاطب فرماتے۔ یہ واقعہ اسلامی تاریخ میں ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے جو اسلام کے عالمگیر پیغام اور تمام انسانوں کی برابری کو اجاگر کرتا ہے، جہاں ایک نابینا مگر سچے متلاشیِ حق کی قدر و قیمت قریش کے طاقتور سرداروں سے بھی بڑھ کر تھی۔

نمایاں کارنامے اور خدمات

حضرت عبداللہ بن ام مکتوم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی زندگی خدمات سے لبریز تھی۔ آپ نے مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت کی اور مہاجرین اولین میں شامل ہوئے۔ آپ ان اصحاب میں سے تھے جنہوں نے ہجرت کے بعد مدینہ منورہ میں اسلامی دعوت کو پھیلانے میں اہم کردار ادا کیا۔

  • مدینہ کے پہلے مؤذن: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ کے ساتھ آپ کو بھی مدینہ منورہ میں مؤذن مقرر فرمایا۔ یہ دونوں حضرات باری باری اذان دیتے تھے۔ حضرت عبداللہ بن ام مکتوم رضی اللہ تعالیٰ عنہ فجر کی دوسری اذان دیا کرتے تھے، جس کے بعد روزہ داروں کے لیے سحری کا وقت ختم ہو جاتا تھا۔
  • نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی غیر موجودگی میں امامت: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کئی مواقع پر جب آپ مدینہ سے باہر کسی غزوہ یا مہم پر تشریف لے جاتے، تو حضرت عبداللہ بن ام مکتوم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو مدینہ منورہ میں نمازوں کی امامت کا فریضہ سونپتے تھے۔ یہ آپ کے علم، فضل اور دین میں مقام کی ایک واضح دلیل تھی کہ ایک نابینا صحابی کو اتنی اہم ذمہ داری تفویض کی جاتی تھی۔ غزوہ بدر، غزوہ احد، اور غزوہ خندق سمیت کئی مواقع پر آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نیابت میں امامت فرمائی۔
  • جہاد میں شرکت کا جذبہ: آپ اگرچہ جسمانی طور پر نابینا تھے اور جنگ میں حصہ لینے سے مستثنیٰ تھے، لیکن آپ میں جہاد کا گہرا جذبہ تھا۔ آپ نے کئی غزوات میں شرکت کی خواہش ظاہر کی اور جب سورہ نساء کی آیت نمبر 95 نازل ہوئی جس میں جہاد کرنے والوں کی فضیلت کا ذکر تھا، تو آپ نے عرض کیا: "یا رسول اللہ! اگر میں بھی جہاد کی طاقت رکھتا تو ضرور کرتا۔” اس پر اللہ تعالیٰ نے قرآن میں ترمیم نازل فرمائی اور جہاد کرنے والوں کی فضیلت کے ساتھ "غير اولي الضرر” (ان معذوروں کے سوا جو جہاد کی طاقت نہ رکھتے ہوں) کا اضافہ کر دیا۔ یہ ان کی دین کے لیے سچی لگن اور جہاد کے شوق کا مظہر تھا۔
  • غزوہ قادسیہ میں شرکت اور شہادت: آپ نے اپنی زندگی کے آخری ایام میں حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دورِ خلافت میں ہونے والے عظیم غزوہ قادسیہ میں شرکت فرمائی۔ آپ نے اصرار کیا کہ آپ کو جنگ میں پرچم بردار بنایا جائے۔ آپ نے فرمایا کہ "مجھے دو صفوں کے درمیان کھڑا کر دو اور جھنڈا میرے ہاتھ میں دے دو، میں اسے نہیں چھوڑوں گا خواہ مجھے شہید ہی کیوں نہ کر دیا جائے۔” مورخین کی اکثریت کے مطابق، آپ نے 15 ہجری بمطابق 636 عیسوی میں اس معرکے میں جامِ شہادت نوش فرمایا، اور اس طرح دین اسلام کی سربلندی کے لیے اپنی جان قربان کر دی۔

میراث اور وصال

حضرت عبداللہ بن ام مکتوم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی زندگی اور خدمات پوری امت مسلمہ کے لیے ایک عظیم اور لازوال میراث چھوڑ گئیں۔ آپ کا وصال غزوہ قادسیہ میں شہادت کی صورت میں ہوا۔ آپ کی قبر مبارک قادسیہ کے میدان میں ہی ہے۔

آپ کی میراث کے چند اہم پہلو یہ ہیں:

  • معذور افراد کے لیے نمونہ: آپ نے یہ ثابت کیا کہ جسمانی معذوری اللہ کی راہ میں رکاوٹ نہیں بنتی۔ آپ نے اپنی نابینائی کے باوجود وہ خدمات انجام دیں جو بظاہر صحت مند افراد کے لیے بھی دشوار ہوتی ہیں۔ آپ کی زندگی معذور افراد کے لیے عزم و ہمت اور دین کی خدمت کا روشن مینار ہے۔
  • ایمان کی عظمت: آپ کا واقعہ جو سورہ عبس کے نزول کا سبب بنا، یہ ظاہر کرتا ہے کہ اللہ کے نزدیک مادی حیثیت، حسب و نسب، اور جسمانی ظاہری حالت سے زیادہ ایمان کی سچائی اور ہدایت کی طلب اہمیت رکھتی ہے۔ یہ تمام انسانوں کے لیے ایک اہم سبق ہے کہ اللہ کے ہاں تقویٰ ہی معیار فضیلت ہے۔
  • رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عاجزی: آپ کا واقعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بے مثال عاجزی اور اللہ کے احکامات کے سامنے سر تسلیم خم کرنے کی مثال پیش کرتا ہے۔ اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات بھی الہٰی رہنمائی کے تحت تھی۔
  • اذان اور امامت کا تقدس: آپ کا مؤذن اور امام مقرر ہونا اس بات کی گواہی ہے کہ ان دینی مناصب کے لیے ظاہری بصارت سے زیادہ دل کی بصیرت اور دین کا گہرا فہم ضروری ہے۔

حضرت عبداللہ بن ام مکتوم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی زندگی تقویٰ، جہاد، صبر اور اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کی ایک بہترین مثال ہے۔ آپ کا ذکر اسلامی تاریخ میں ہمیشہ سنہری حروف سے لکھا جائے گا۔

مستند حوالہ جات

  • القرآن الکریم: سورہ عبس (آیات 1 تا 10)
  • صحیح بخاری (کتاب الاذان، کتاب فضائل الصحابہ)
  • صحیح مسلم (کتاب الصلاۃ)
  • سیرت ابن ہشام
  • الطبری: تاریخ الرسل و الملوک
  • ابن کثیر: البدایہ و النہایہ
  • ابن الاثیر: اسد الغابہ فی معرفتہ الصحابہ
  • ابن حجر عسقلانی: الاصابہ فی تمییز الصحابہ