انس بن مالك رضی اللہ تعالی عنہ
خاندانی پس منظر اور لقب
انس بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ کا مکمل نام انس بن مالک بن نضر بن ضمضم بن زید بن حرام بن جندب بن عامر الانصاری الخزرجی النجاری ہے۔ آپ کا تعلق انصار کے قبیلہ خزرج کی شاخ بنو نجار سے تھا، جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ننہیالی رشتہ دار تھے۔ آپ کی والدہ ماجدہ کا نام ام سلیم بنت ملحان رضی اللہ تعالی عنہا تھا، جو صحابیات میں ایک بلند مقام رکھتی تھیں اور اپنے دین پر استقامت اور فہم و فراست کے لیے مشہور تھیں۔ آپ کے والد مالک بن نضر تھے، جو ہجرت سے قبل ہی وفات پا چکے تھے۔ انس بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ کی کنیت "ابو حمزہ” تھی، جو انہیں خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عطا فرمائی تھی۔
ابتدائی زندگی اور قبولِ اسلام
انس بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ کی پیدائش مدینہ منورہ میں ہوئی تھی۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت فرما کر مدینہ تشریف لائے، تو انس بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ کی عمر تقریباً دس برس تھی۔ آپ کی والدہ ام سلیم رضی اللہ تعالی عنہا، جو ایک دیندار اور بافہم خاتون تھیں، نے اپنے بیٹے کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کے لیے پیش کیا۔ انہوں نے عرض کیا: "یا رسول اللہ! (صلی اللہ علیہ وسلم) مدینہ کے مردوں اور عورتوں نے آپ کو ہدیے پیش کیے ہیں، میرے پاس کوئی ہدیہ نہیں ہے سوائے میرے بیٹے انس کے۔ یہ آپ کی خدمت کرے گا۔” رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شفقت کے ساتھ انہیں قبول فرمایا اور اس طرح انس بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ کو دس سال تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتی خدمت کا شرف حاصل ہوا۔ اس عرصے میں انہوں نے براہِ راست آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میں رہ کر علم، حکمت اور آدابِ نبوی کی تربیت حاصل کی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انس رضی اللہ تعالی عنہ کے لیے لمبی عمر، مال و اولاد میں کثرت اور ان تمام چیزوں میں برکت کی دعا فرمائی تھی، جو بعد میں بتمام و کمال پوری ہوئی۔
نمایاں کارنامے اور خدمات
انس بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ کی زندگی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اور اسلام کی ترویج میں گزری۔ آپ کے نمایاں کارنامے اور خدمات درج ذیل ہیں:
- رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت: دس سال تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خادمِ خاص کے طور پر رہنا انس رضی اللہ تعالی عنہ کا سب سے بڑا اعزاز ہے۔ آپ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو کے لیے پانی لاتے، جوتے اٹھاتے، ضرورت کے کام انجام دیتے اور سفر و حضر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہتے تھے۔ اس قربت نے انہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق و عادات، اقوال و افعال اور سیرتِ طیبہ کو قریب سے دیکھنے اور سمجھنے کا موقع دیا۔
- احادیث کی روایت: انس بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کثیر تعداد میں احادیث روایت کی ہیں۔ آپ کا شمار کثرت سے احادیث روایت کرنے والے صحابہ کرام میں ہوتا ہے، جن کی تعداد تقریباً 2286 ہے۔ آپ کی روایات صحیح بخاری، صحیح مسلم اور دیگر کتبِ حدیث میں بکثرت موجود ہیں۔ آپ نے جو کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھا اور کانوں سے سنا، اسے انتہائی احتیاط سے امت تک پہنچایا۔
- علم و تعلیم کا فروغ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد، انس بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ بصرہ منتقل ہو گئے اور وہیں مستقل سکونت اختیار کر لی۔ آپ بصرہ میں علم کے ایک عظیم مرکز بن گئے اور ہزاروں طلباء نے آپ سے حدیث، فقہ اور سنت کا علم حاصل کیا۔ آپ کے شاگردوں میں تابعین کی ایک کثیر تعداد شامل تھی، جنہوں نے آپ کے ذریعے سے علمِ نبوی کو مزید پھیلایا۔
- غزوات میں شرکت: اگرچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کے دوران آپ کی عمر کم تھی، تاہم آپ نے کئی غزوات میں شرکت کی اور اسلامی فوج کی معاونت کی۔ آپ غزوہ بدر، احد، خندق، فتح مکہ اور حنین سمیت متعدد معرکوں میں موجود تھے۔
- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا کی قبولیت: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کے لیے مال و اولاد میں برکت کی دعا فرمائی تھی، جو حرف بہ حرف پوری ہوئی۔ آپ نے ایک طویل عمر پائی اور آپ کے بیٹوں کی تعداد اسی (80) سے زائد تھی اور تقریباً بیس (20) بیٹیاں تھیں۔ آپ بصرہ کے مالدار صحابہ میں سے تھے اور آپ کے باغ میں پھل سال میں دو مرتبہ آتے تھے۔
میراث اور وصال
انس بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ بصرہ میں طویل عرصے تک رہے اور وہاں اسلامی علم کے سب سے بڑے مرجع بن گئے۔ آپ نے اپنی زندگی کے آخری ایام بصرہ ہی میں گزارے اور طویل عمر پانے والے صحابہ کرام میں سے تھے۔ آپ رضی اللہ تعالی عنہ نے تقریباً 93 ہجری (بعض روایات کے مطابق 91 یا 92 ہجری) میں بصرہ میں وفات پائی۔ اس وقت آپ کی عمر سو سال سے بھی زائد تھی۔ آپ آخری بڑے صحابہ کرام میں سے تھے جنہوں نے بصرہ میں وفات پائی۔ آپ کا مزار بصرہ میں ہے۔ آپ کی وفات پر مسلمانوں نے شدید غم محسوس کیا، کیونکہ آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک زندہ نشانی تھے۔ انس بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ کی میراث ان کی روایت کردہ ہزاروں احادیث، ان کے شاگردوں کا عظیم حلقہ اور ان کی عملی زندگی ہے، جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کا بہترین نمونہ تھی۔ آپ کی زندگی اس بات کا ثبوت ہے کہ اللہ تعالی اپنے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کی دعاؤں کو کس طرح قبول فرماتا ہے۔
مستند حوالہ جات
- صحیح بخاری (کتاب العلم، کتاب الأدب، وغیرہ)
- صحیح مسلم (کتاب فضائل الصحابہ، وغیرہ)
- سنن ترمذی (کتاب المناقب، باب مناقب أنس بن مالك رضي الله عنه)
- سیرت ابن ہشام
- تاریخ طبری
- البدایہ و النہایہ از ابن کثیر
- اسد الغابہ فی معرفۃ الصحابہ از ابن الأثیر
- الإصابة في تمييز الصحابة از ابن حجر عسقلانی
