آرزوؤں کا شجر دے یا خدا میرے خدا

آرزوؤں کا شجر دے یا خدا میرے خدا
پھر مجھے تازہ ثمر دے یا خدا میرے خدا

تھر تھراتا ہی رہوں تیرے جلال و خوف سے
خستہ دل اور چشمِ تر دے یا خدا میرے خدا

صحنِ کعبہ میں تلاوت اور کروں طوفِ حرم
مجھ کو پاکیزہ سفر دے یا خدا میرے خدا

سبز کرنوں کا اجالا میں اتاروں روح میں
میرے دل کو وہ نظر دے یا خدا میرے خدا

میں غریب شہرِ دل ہوں اور مغیلانِ جہاں
اک گلابوں کا شجر دے یا خدا میرے خدا

آنسوؤں کی بارشوں میں حمد کے اشعار ہوں
میرے لفظوں میں اثر دے یا خدا میرے خدا

دل کے آنگن میں بہاریں رقص کرتی ہی رہیں
خوشبوؤں کا وہ نگر دے یا خدا میرے خدا

اس اجاگر کو بفیضِ نعتِ جامی و رضا
اک کلامِ معتبر دے یا خدا میرے خدا

Previous ازل سے کوئی نظام سارا چلا رہا ہے وہی خدا ہے Next میرے نبی دا رتبہ اعلی صلی اللہ علیہ وسلم

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے