اُس کی تعریف محمد کے سِوا کون کرے

اُس کی تعریف محمد کے سِوا کون کرے
تو جہاں کہیں بھی ہے تو جہاں کہیں رہا
نہ خیال کی پہنچ ، نہ خِرد کو راستہ
نہ کمندِ آگہی سے بلند ہی رہا
کوئی جستجو میں گُم کوئی عرش تک رسا
وَتُعِزُّ مَنۡ تَشَآءُ وَتُذِلُّ مَنۡ تَشَآءُؕ

یہ مکان و لامکاں کی عبث ہے گفتگو
تو ہی نورِ مہر و مہ، تو ہی گل کا رنگ و بُو
رہا سب کے روبرو، رہی پھر بھی جستجو
کوئی راہ کھو گیا، کوئی تجھ کو پاگیا
وَتُعِزُّ مَنۡ تَشَآءُ وَتُذِلُّ مَنۡ تَشَآءُؕ
مجھے سرفراز کر، مرے بخت کو جَگا
جو عزیز ہو تجھے ، وہی کر مجھے عَطا
جو تجھے پسند ہو، اسی راہ پر چلا
جو ترے غضب میں ہوں ، مجھے ان سے رکھ جدا
وَتُعِزُّ مَنۡ تَشَآءُ وَتُذِلُّ مَنۡ تَشَآءُؕ

Previous اللہ اللہ شاہ کونین جلالت تیری Next ازل سے کوئی نظام سارا چلا رہا ہے وہی خدا ہے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے