حال دل کس کو سنائیں آپ کے ہوتے ہوئے

haal e dil kis ko sunayein ap ky hotey howe

حال دل کس کو سنائیں
آپ کے ہوتے ہوئے

کیوں کسی کے در پہ جائیں
آپ کے ہوتے ہوئے

میں گدائے مصطفی ہوں
یہ میری پہچان ہے

غم کیوں میرے پاس ہیں
آپ کے ہوتے ہوئے

یہ تو ہو سکتا نہیں
یہ بات ممکن ہی نہیں

میرا گھر عالم ہے
آپ کے ہوتے ہوئے

کہہ رہا ہے آپ کا رب
انتا فہیم آپ سے

کیوں انہیں دو میں سزائیں
آپ کے ہوتے ہوئے

اپنا جینا اپنا مرنا
اب اسی جو کٹ پے ہے

اب کہاں سرکار جائیں
آپ کے ہوتے ہوئے

میں یہ کیسے مان جاؤں
شام کے دربار میں

چھین لے کوئی ردائی
آپ کے ہوتے ہوئے

سامنا ہے اے علی کے لال
اسوا آپ کا

کیوں کسی کا خوف کھائیں
آپ کے ہوتے ہوئے

Previous یہ نازیہ انداز ہمارے نہیں ہوتے Next کوئی سلیقہ ہے آرزو کا نا بندگی میری بندگی ہے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے