یہ نازیہ انداز ہمارے نہیں ہوتے

یہ نازیہ انداز ہمارے نہیں ہوتے
جھولی میں اگرٹکڑے تمھارے نہیں ہوتے

جب تک کہ مدینے سے اشارے نہیں ہوتے
روشن کبھی قسمت کے ستارے نہیں ہوتے

دامانِ شفاعت میں ہمیں کون چھپاتا
سرکارﷺ اگر آپﷺ ہمارے نہیں ہوتے

ملتی نہ اگر بھیک ہمیں آپ ﷺکے در سے
تو اس ٹھاٹ سے منگتوں کے گزارے نہیں ہوتے

بے دام ہی بک جایئے بازار نبیﷺ میں
اس شان کے سودے میں خسارے نہیں ہوتے

ہم جیسے نکموں کو گلے کون لگاتا
سرکارﷺ اگر آپﷺ ہمارے نہیں ہوتے

خالدؔ یہ تصدُق ہے فقط نعت کا ورنہ
محشر میں تیرے وارے نیارے نہیں ہوتے

Previous یہ کہتی تھی گھر گھر میں جا کر حلیمہ Next حال دل کس کو سنائیں آپ کے ہوتے ہوئے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے