نصیب آج اپنے جگائے گئے ہیں

نصیب آج اپنے جگائے گئے ہیں
در مصطفی ﷺ پر بلائے گئے ہیں

مدینے کی گلیوں میں جا کر تو دیکھو
زمیں پر ستارے بچھائے گئے ہیں

کہیں اور لٹتے ہیں ایسے خزانے
مدینے میں جیسے لٹائے گئے ہیں

ازل سے ہی تھا عرش جن کا ٹھکانہ
وہی عرش پر تو بلائے گئے ہیں

ہمارے نبی ﷺ نے بہائے جو آنسو
کسی اور سے بھی بہائے گئے ہیں

جو عشق نبی ﷺمیں بہت غمزدہ تھے
وہ کملی میں سارے چھپائے گئے ہیں

یہی ہے وہ مسرؔ ور دربار عالی
یہیں ناز اپنے اٹھائے گئے ہیں

Previous نبی کا لب پر جو ذکر ہے بےمثال آیا کمال آیا Next نعت سرکار کی پڑھتاہوں میں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے