آقا کے غلاموں کو اب عید منانے دو

آقا کے غلاموں کو اب عید منانے دو
سرکار کی آمد ہے راہوں کو سجانے دو

چرچا ہے یہی ہر سو کہتا ہے یہ ہر کوئی
تشریف نبی لائے محفل کو سجانے دو

گھر گھر یہ چراگاہ ہے رحمت کا اُجالا ہے
آقا کی سنا کرکے تقدیر جگانے دو

خوشیاں ہیں سبھی کرتے سرکار کی آمد پر
ایک نعت نبی یاروں مُجھکو بھی سنانے دو

ہے نورِ محمد کی سب روشنی دُنیا میں
سب کُچھ ہے بشیر اُنکا صدقۃ تو لوٹانے دو

Previous 81- المنتقم Next اللهمَّ بَلِّغْنَا رَمَضَانَ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے